ابنا: جن پساکی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس سلسلے میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک، دونوں ہی اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ چھے مہینوں کے اندر اندر حتمی سمجھوتہ طے کرلیا جائے۔ اس ترجمان نے امریکی صدر بارک اوباما کی سالانہ تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بارک اوباما نے بھی تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیچیدگیاں ہیں جن کی بناء پر مزید وقت لگ سکتا ہے اور یہ بھی نہیں بتایا جاسکتا کہ کتنا وقت لگ سکتا ہے۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور سفارتی عمل کو موقع دیئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی نتیجہ نکل سکے۔قابل ذکر ہے کہ جنیوا سمجھوتے کی بنیاد پر فریقین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ چھے مہینوں کے دوران سمجھوتے پر عمل کرتے ہوئے حتمی سمجھوتے کے حصول کیلئے ضروری اقدامات بھی عمل میں لاتے رہیں گے۔
.......
/169